الأحد، 20 ذو القعدة 1447 هـ | 18 مايو 2026 م
تحقیقات و مطالعہ العدد الحادي والعشرون

جشنِ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ: ایک عظیم نعمت اور شرعی حیثیت

مصنف: محمد نور الدین الازہری (نئی دہلی) مئی 2026ء وقت: 7 دقائق
فونٹ کا سائز:
جشنِ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ: ایک عظیم نعمت اور شرعی حیثیت
مختصر تعارف و خلاصہ
حضور سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت پر خوشی کا اظہار کرنا اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور اہل ایمان کے لیے باعثِ فخر و سعادت ہے۔ موجودہ دور میں جب بعض حلقے جشنِ ولادت کو بلا تفریق بدعت اور گمراہی قرار دے کر مسلمانوں کو سیرت النبی ﷺ کے ذکر اور اس بابرکت موقع پر اظہارِ شکر سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہ امر نہایت ضروری ہو جاتا ہے کہ اس مسئلے کی شرعی و تحقیقی حقیقت کو اجاگر کیا جائے۔ یہ علمی مضمون ائمہ سلف اور جلیل القدر فقہاء و محدثین جیسے امام نووی، حافظ ابن حجر عسقلانی اور علامہ جلال الدین سیوطی کے نصوص کی روشنی میں ثابت کرتا ہے کہ تلاوتِ قرآن، نعت خوانی، ذکرِ سیرت اور اطعامِ طعام جیسی کارِ خیر پر مبنی مجالس نہ صرف مستحسن ہیں بلکہ نئی نسل کو محبتِ رسول ﷺ سے روشناس کرانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

نبی اکرم، رحمتِ عالم ﷺ کی ولادتِ باسعادت پر خوشی و مسرت کا اظہار ہر مومن کا طرۂ امتیاز اور اللہ رب العزت کی عظیم نعمت پر شکر گزاری کا مظہر ہے۔

عہدِ حاضر میں بعض کم فہم افراد نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کو ذکرِ ولادت اور میلاد النبی ﷺ سے متنفر کرنے کی منظم کوشش کی ہے، اور اسے بدعتِ سیئہ کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ناکام سعی کی ہے۔

• حالانکہ حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: 'مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا...' جس سے ائمہ دین نے واضح کیا ہے کہ ہر نئی انتظامی صورت مذموم نہیں ہوتی بلکہ اسے اصولِ شریعت کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔

• امام نووی، ابن عابدین حنفی، حافظ ابن حجر عسقلانی، اور امام جلال الدین سیوطی جیسے اکابر محدثین نے میلاد کی مشروعیت اور اس کے استحسان پر باقاعدہ فتاویٰ اور تصانیف قلمبند فرمائی ہیں۔

• محفلِ میلاد کا اصل مقصد ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، سیرت و شمائلِ مصطفیٰ ﷺ کا بیان، درود و سلام کا نذرانہ اور اطعامِ طعام ہے، جو تمام کے تمام پسندیدہ اور شرعی اعمال ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب پاک ﷺ کی سچی محبت اور اتباعِ سنت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مضمون شیئر کریں: